Saturday, September 24, 2016

اُنہوں کچھ دیدا ہے (کیوں وہ کانا ہے؟)

اُنہوں کچھ دیدا ہے (کیوں وہ کانا ہے؟)

مصنف:  مرتضیٰ مہر 



اس سے پہلے کی گئی پوسٹ میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ( پچھلی پوسٹ کو پڑھنے کے لئے  یہاں کلک کریں)  کہ مرزا بشیر الدین بیان کرتا ہے کہ غیر محرم عورتوں کو دیکھ کر مرزا اپنی آنکھیں خوابیدہ کر لیا کرتا تھا اب اس بیان کی تکذیب بھی مرزا بشیر الدین کی ہی زبان سے ملاحظہ کر لیں ۔

مرزا غلام قادیانی عورتوں کو دیکھتے وقت آنکھیں خوابیدہ کر لیا کرتا تھا بالکل جھوٹ ہے جو لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایجاد کیا گیا ہے اور یہ جھوٹ کیوں ایجاد کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ

مرزا غلام قادیان کے اندرون خانہ ایک نیم دیوانی سی عورت بطور خادمہ کے رہا کرتی تھی ۔ایک دفعہ اُس نے کیا حرکت کی کہ جس کمرے میں مرزا بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کاکام کرتے تھے وہاں ایک کونے میں کھُرا تھا جس کے پاس پانی کے گھڑے رکھے تھے وہاں اپنے کپڑے اُتار کر اور ننگی بیٹھ کر نہانے لگ گئی ۔ مرزا غلام قادیان اپنے کام تحریر میں مصروف رہے (یا مصروف رہنے کی ایکٹنگ کرتے رہے) اور کچھ خیال نہ کیا (میں نہیں مانتا) کہ وہ کیا کرتی ہے ۔ جب وہ نہا چکی تو ایک خادمہ اتفاقاً آ نکلی ۔اُس نے اُس نیم دیوانی کوملامت کی کہ مرزا کے کمرے میں اور موجودگی کے وقت تو نے یہ کیا حرکت کی تو اُس نے ہنس کر جواب دیا ۔ اُنہوں کچھ دیدا ہے (ذکر حبیب ص 38)

(یعنی اسے کون سا نظر آتا ہے یعنی دیوانی مرزا غلام قادیانی کو کانا سمجھتی تھی) مرزا غلام قادیانی کو کچھ دیدا تھا یا نہیں مرزا کی ہی زبان سے سن لیں۔

’’اُس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوگی جو اُس سے پہلے نکلے گی اور وہ اُس کے بعد نکلے گا ۔ اُس کا سر اُس دُختر کے پیروں سے ملا ہوا ہوگا ۔ یعنی دُختر معمولی طریق سے پیدا ہوگی کہ پہلے سر نکلے گا اور پھر پیر اور اُس کے پیروں کے بعد بلاتوقف اُس پسر کا سر نکلے گا ۔(جیسا کہ میری ولادت اور میری توام ہمشیرہ کی اسی طرح ظہور میں آئی)۔(خزائن ج 15ص 482-83)


اب آپ خود غور کریں کہ جو شخص اپنی پیدائش کا آنکھوں دیکھا حال بیان کر سکتا ہے کیا اُس کے بارے میں کوئی یہ رائے قائم کر سکتا ہے ’’کہ انہوں کجھ دیدا ہے؟‘‘اور حیرت تو یہ ہے کہ حافظہ بھی کمال کا ہے میسح جی اپنے الہام تو بھول جاتے تھے لیکن اپنی پیدائش کے منظر اور طریقے کو نہیں بھولے ۔اب آتے ہیں اس طرف کہ مرزا غلام قادیانی غیر محرم عورتوں کو دیکھ کر آنکھیں خوابیدہ کر لیتا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ آنکھیں خوابیدہ مرزا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ قدرتی طور پر خوابیدہ آنکھیں رکھتا تھا اور ان خوابیدہ آنکھوں سے صاف صاف دیکھنے میں وہ پوری طرح طاق تھا ۔


اور چونکہ مرزا قادیانی کی آنکھیں بھینگی بھی تھیں جن سے لوگ دھوکہ کھا جاتے تھے کہ شاید کوئی کتاب پڑھ رہا ہے یا کوئی اور کام کر رہا ہے لیکن اُس کا دھیان کسی اور طرف ہوتا تھا جیسا کہ مرزا بشیر الدین کہتا ہے کہ ’’لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں مگر آپ کا دھیان کسی اور کی طرف ہوتا ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ سوم روایت نمبر 53)

اب سمجھ آئی آپ کو کہ ننگی عورت نہا رہی تھی اور مرزا نے اُس کی طرف کچھ خیال کیوں نہیں کیا ؟ کیونکہ وہ بھینگا تھا اور اُسے اُس پر براہ راست نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ ٹیڑھی آنکھوں سے سیدھا دیکھ سکتا تھا ۔


مرزا غلام قادیانی کی خوابیدہ آنکھوں والے جھوٹ کی تکذیب بھی مرزا بشیرالدین کی ہی زبان سے سن لیں ’’آپ کی یہی عادت تھی کہ آپ کی آنکھیں ہمیشہ نیم بند رہتی تھیں ۔ ‘‘ ( سیرت المہدی حصہ دوم روایت نمبر 403ص 77)

ایک دفعہ حضرت صاحب مع چند خدام کے فوٹو کھچوانے لگے تو فوٹو گرافر آپ سے عرض کرتا تھا کہ حضور آنکھیں ذرا کھول کر رکھیں ورنہ تصویر اچھی نہیں آئے گی اور آپ نے اُس کے کہنے پر ایک دفعہ تکلف کے ساتھ آنکھوں کو کچھ زیادہ کھولا بھی مگر وہ پھر اسی طرح نیم بند ہو گئیں ۔ (سیرت المہدی حصہ دوم روایت نمبر 404ص 77)

اُمید ہے کہ اب آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ مرزا کو کچھ دیدا ہے کا جھوٹ قادیانیوں نے کیوں ایجاد کیا تھا ۔ ؟

نام نہاد قادیانی خلیفہ کی نام نہاد مسیح قادیانی کی صریح خلاف ورزی

نام نہاد قادیانی خلیفہ کی نام نہاد مسیح قادیانی کی صریح خلاف ورزی 


مصنف : مرتضیٰ مہر

بہت ہے جو اوپر سے صاف ہیں مگر اندر سے سانپ ( خزائن ج 19 ص 12)

مرزا بشیر احمد ایم اے بے پردہ عورتوں سے ملنے جلنے کے متعلق سوال کے جواب میں کہتا ہے کہ:

’’ایک اصولی بات اس خط میں موجود زمانہ میں بے پردہ عورتوں سے ملنے جلنے کے متعلق بھی پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اس زمانہ میں بے پردہ عورتیں کثرت کے ساتھ باہر پھرتی ہوئی نظر آتی ہیں ۔ اور جن سے نظر کو مطلقاً بچانا قریباً قریباً محال ہے اور بعض صورتوں میں بے پردہ عورتوں کے ساتھ انسان کو ملاقات بھی کرنی پڑ جاتی ہے اس کے متعلق (نام نہاد) حضرت مسیح موعود نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ :

ایسی غیر محرم عورتوں کے سامنے آتے ہوئے انسان کو یہ احتیاط کر لینی کافی ہے کہ کھول کر نظر نہ ڈالے اور اپنی آنکھوں کو خوابیدہ رکھے اور یہ نہیں کہ ان کے سامنے بالکل ہی نہ آئے ۔ (اگر اُن کے سامنے آنا پڑے تو نظر اُٹھا کر نہ دیکھے بلکہ نظر خوابیدہ رکھے)۔ کیونکہ بعض عورتوں میں یہ بھی ایک حالات کی مجبوری ہے ہاں آدمی کو چاہیے کہ خدا سے دعا کرتا رہے کہ وہ اسے ہر قسم کے فتنے سے محفوظ رکھے ۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں بچپن میں دیکھتا تھا کہ جب (نام نہاد) حضرت مسیح موعود گھر میں کسی ایسی عورت کے ساتھ بات کرنے لگتے تھے جو غیر محرم ہوتی تھی اور وہ آپ سے پردہ نہیں کرتی تھی تو آپ کی آنکھیں قریباً بند سی ہوتی تھیں ۔‘‘(سیرت المہدی حصہ دوم ص 405روایت نمبر 442)

یہ جاننے کے لئے کہ کیا قادیانی مرزا غلام قادیانی کی اس تعلیم پر عمل کرتے ہیں سرچ کی تو مجھے قادیانیوں کے نام نہاد خلیفہ کی ہی کئی تصاویر میسر آ گئیں ۔ جن میں وہ بے پردہ عورتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لوفراور بے غیرت مرد 
کی طرح دیکھ رہے ہیں کچھ تصویریں  مندرجہ ذیل ہیں ۔





















اب آپ خود بتائیں کہ کیا مرزا مسرور کی یہ بے حیائی مرزا غلام قادیانی کی تعلیم کے خلاف نہیں ہے؟

مزید حیرت میں مبتلا ہونے کے لئے مرزا بشیر الدین محمود کا یہ بیان ملاحظہ فرمائیں جو اوپر والی روایت کا ہی حصہ ہے ۔

’’اور مجھے یاد ہے کہ میں اس زمانہ میں دل میں تعجب کیا کرتا تھا کہ حضرت صاحب اس طرح آنکھوں کو بند کیوں رکھتے ہیں ۔ لیکن بڑے ہو کر سمجھ آئی کہ دراصل وہ اسی حکمت سے تھا۔‘‘(حوالہ ایضاً)

اور اس روایت کے سمجھ آنے کے بعد مرزا محمود کا شوق بھی دیکھ لیں۔’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس آئے،تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی ’’عریانی‘‘ سے نظر آ سکے ۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے ،جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا اوپیرا سینما کو کہتے ہیں ،(مرزا غلام قادیانی خود بھی تھیٹر جایا کرتے تھے اور اُس کے مرید بھی (ذکر حبیب ص 18) چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سوسائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے ،میری نظر چونکہ کمزور ہے اسلئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا (مرزا بھی ننگی عورتوں کو دیکھ کر بعد میں اندھا بننے کی ایکٹنگ کیا کرتا تھا (ذکر حبیب ص 38) تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ ’’سینکڑوں عورتیں‘‘ بیٹھی ہیں میں نے چودھری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں اُنہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ ننگی معلوم ہوتی ہیں ۔(سبحان اللہ یہ نظر کی کمزوری ہے جو لباس کے آڑ پاڑ دیکھ سکتی ہے اگر نظر مضبوط ہوتی تو شاید آنکھوں سے ہی سوراخ کر دیتے) تو یہ بھی ایک لباس ہے اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں سے جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے ۔ (خطبات محمود ج 1ص226،اخبار الفضل قادیان 24جنوری 1934 ؁،تاریخ محمودیت ص 67)

نوٹ فرما لیں کہ مرزا غلام قادیانی نے ایسے یہودی صفت علماء کی مثال گدھے سے دی ہے جو کتابوں سے لدا ہوا ہو ۔ظاہر ہے کہ عوام کو کتابوں سے کچھ سروکار نہیں ۔(خزائن ج 17ص330)

تو ثابت ہوا مرزا مسرور سانپ ہیں !









Saturday, June 18, 2016

قادیانیوں کے حقوق !


قادیانیوں کے حقوق !


مصنف : گھمنام


اب بات قادیانیوں کے حقوق کی ہی چل پڑی ہے تو کیوں نہ حقوق کو ڈسکسس کیا جائے !

١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی تھی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر علماء کرام نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ "مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں. "
قومی اسمبلی میں ہونے والی پوری جرح جو کہ تین ہزار پیجز پر مشتمل ہے جسکو پی پی پی کی پچھلی حکومت نے قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کے حکم سے عوام تک رسائی کے لئے پبلش کرنے حکم جاری کیا تھا .

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس ... !
١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا. جن حقوق کو لے کر حقوق حقوق کا شور مچایا جاتا ہے تھوڑی نظر کرم اس حقوق کی طرف دیکھ لیں اور فیصلہ کریں کیا یہ مرزائیوں کے حقوق ہیں ؟

پاکستان آئین کی شق :298Bکے مطابق قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا ... !
آرڈیننس بنام:”قادیانی گروپ ‘لاہوری گروپ اور اَحمدیوں کی خلافِ اسلام سرگرمیاں (امتناع وتعزیر)آرڈیننس1984ئ”کے ذریعے مجموعہ تعزیراتِ پاکستان (ایکٹ : 45بابت 1860ئ’باب:15) میں دفعہ:298B اور 298Cکی ترمیم واضافہ (298.B)بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لیے مخصوص القاب،اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال.
(١). قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جوخود کو”احمد ی”یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جوالفاظ کے ذریعے،خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمدۖ کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمؤ منین’ خلیفتہ المسلمین’صحابی یارضی اللہ عنہ کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمدۖ کی کسی زوجہ مطہرّہ کے علاوہ کسی ذات کو اُم المؤمنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ (ج) حضرت محمدۖ کے خاندان (اہلِ بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل ِ بیت کے طورپر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔ (د) اپنی عبادت گاہ کو ”مسجد”کے طورپر منسوب کرے یاموسوم کرے یا پکارے تو اُسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔
(٢). قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کاکوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لیے بلانے کے طریقے یاصورت کو اذان کے طورپر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال ہوسکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستو جب بھی ہوگا۔


پاکستان آئین کی شق : 298C کے مطابق قادیانیوں مذہب کی تبلیغ یا تشہیر روک دیا گیا .
" قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے قادیانی گروپ یالاہوری گروپ (جوخود کو اَحمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کاکوئی شخص جوبلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے۔ کسی ایک قسم کی سزائے قیداِتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہوسکتی ہے."


اب سوال یہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد ایک ایسے گروہ اور جماعت کو غیر مسلم قرار دیا گیا جو نہ صرف اسلامی تعلیمات کو منسخ کر کے پیش کر رہیں ہیں بلکہ اسلام کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچانے میں پیش پیش ہیں.
سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان آئین کی شق : 298B اور 298C کے مطابق قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکنا کیا قادیانیوں کے حقوق ہیں ؟
کیا نبی صلی الله علیہ وسلم کے خلیفہ راشدین کہ ہم پلہ مرزا غلام احمد کی نبوت کے دکانداروں کھڑا کرناپاکستان کے مسلمانوں سے انصاف ہے ؟
سوال یہ بھی مرزا غلام احمد قادیانیوں کی بیوی کو اُم المؤمنین کا درجہ دینا کیا قادیانیوں کا حق ہے ؟ مرزا غلام احمد قادیانی کے ساتھیوں کو صحابی کا درجہ دینا کیا قادیانیوں کا حق ہے ؟


اس سب کے موازنے کے بعد مرزائی اپنی مرزائیت کو کو اسلام کہتے ہیں تو پھر پاکستان کے مسلمان کون ہیں ؟
سوال یہ بھی ہے کہ قرآن کے مطابق جو مسلمان کسی ایک نبی کا انکار کرے تو وہ مسلمان نہیں تو قادیانیوں کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے اور پاکستان کے مسلمان اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کیا مرزائیوں کی ڈاکٹرائن جس کو یہ اسلام بنا کر پیش کرتے ہیں کے مطابق جو مسلمان مرزا کو نہیں مانتا کیا وہ مسلمان ہے ؟
اگر آپ کو لگتا ہے یہ مرزائیوں کے حقوق ہیں اور یہ ان کا حق تو پھر آپ اپنے آپ کو مسلمان کہنا چھوڑ دو ، اگر آپ کو لگتا یہ ریاست کا کام نہیں ہے تو پھر بتائے مسلمان معاشرے کے مسلمان ملک میں کذابوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ، اور یہ بھی بتائے کہ مسلمان کا اسلام پر اور اسلام کا ایک مسلمان پر کیا حقوق ہیں .ایک طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ اعلان جہاد کرنا ریاست کا کام ہے ، ریاست کی سر پرستی میں ہی جہاد کیا جا سکتا اور دوسری طرف کہتے کذابوں کا معاملہ علما سے ہے ریاست سے نہیں ،

Wednesday, June 15, 2016

قادیانیت اور پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے

قادیانیت اور پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے.


مصنف : حافظ عبيدالله

=============
قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے اور امتناع قاديانيت آرڈیننس کے اسلامی احکام کے عين مطابق ہونے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اعلى عدالتوں کے فیصلے .
-------------------------------------------------------------------------------------
مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمة الله عليه نے مورخہ 21 جون 1932 کو پنڈت جواہر لال نہرو کو لکھے گئے اپنے ایک خط میں قادیانیوں کے بارے میں تاریخ ساز جملہ لکھا تھا کہ : "وہ اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں" ...
(کچھ پرانے خط، حصه اول ، مرتبه جواهر لعل نهرو، مترجم : عبدالمجيد الحريرى، مكتبه جامعه دهلى، صفحه 293).

جہاں تک مرزا قادیانی اور اسکے ماننے والوں کے بارے میں شرعى فتووں کا تعلق ہے تو نہ صرف بر صغیر بلکہ ساری امت اسلامیہ کے علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں اور ان کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، مرزا قادیانی کی زندگی میں ہی اسکے کفریہ عقائد کے خلاف اس وقت کے علماء کرام نے متفقہ فتوے جاری کردیے تھے ... جہاں تک قانون کا تعلق ہے تو پاکستان بننے سے پہلے 1935 میں مقدمہ بہاولپور کے نام سے مشہور کیس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ... پاکستان بننے کے بعد قادیانیوں نے پاکستان میں اپنے کفریہ عقائد کو اسلام بنا کر پیش کرنا شروع کیا اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا، چنانچہ ان کی ارتدادى سرگرمیوں کو قانونی طریقے سے روکنے کے لیے مسلمانان پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ شرعى طور پر تو قادیانی غیر مسلم ہیں ہی، انھیں قانونی طور پر بھی غیر مسلم قرار دیا جائے تاکہ ان کی ارتدادى سرگرمیوں کو روکا جائے ..چنانچہ کئی سالوں پر محیط تحاریک اور ہزاروں مسلمانوں کے خون کا نذرانہ پیش کرنے کے بعد آخر کار 1974 میں آخر کار یہ مطالبہ منظور ہوا اور آئینی و قانونی طور پر بھی مرزا قادیانی اور اسکے ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا ... اس کے لیے اس وقت کی قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دیا گیا اور مرزائیوں کے دونوں گروہوں قادیانی و لاہوری کو اپنا موقف پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا ، اسکے بعد قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ رائے دی کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں جس کی بنا پر پاکستان کے آئین میں یہ بات ڈال دی گئی . قومی اسمبلی کی اس کاروائی کی تفصیلی رپورٹ منظر عام پر آ چکی ہے ...اور شائع بھی ہو چکی ہے .

لیکن قادیانی سازشیں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لیتیں، وہ گاہے بگاہے مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لیتے رہتے ہیں کہ کہیں وہ سو تو نہیں گئی؟ اسی سلسلے کی ایک کڑی پچھلے دنوں ایک نوجوان اداکار حمزه عباسى کی طرف سے ایک چینل پر چھوڑا گیا یہ شوشہ ہے کہ کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی کو غیر مسلم قرار دے سکے؟ اگرچہ اس بچے کو یہ معلوم ہونا چاہیے تھا کہ ایک اسلامی ریاست کو تو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اسلام ترک کرکے مرتد ہونے والے کو قتل کرے ، اور ظاہر ہے کہ اسے مرتد قرار ریاست ہی دے گی ...اس بچے کو دیا گیا سکرپٹ دینے والوں کو اسے یہ بتانا چاہئے تھا کہ بیٹا آئین پاکستان میں لکھا ہے کہ پاکستان کا صدر صرف ایک مسلمان ہو سکتا ہے ... تو تم سے سوال ہو سکتا ہے کہ کیا ریاست کو مسلمان کی تعریف کرنے کا اخیتار بھی ہے یا نہیں؟ آئین میں غیر مسلموں کے حقوق کا بھی ذکر ہے تو یہ کون بتائے گا کہ غیر مسلم کون ہے؟ ..

اس بچے نے دوسرے دن ایک ویڈیو جاری کی جس میں اپنے پہلے سوال سے دست بردار ہوتے ہوے دوسرا سوال داغا کہ "کیا قادیانیوں کے حقوق کے لئے بات کرنا جرم ہے"؟ اس بچے کو کوئی بتائے کہ کیا اس ملک میں مسلمان اکثریت کو اسکے سارے حقوق مل گئے ہیں جو اسے قادیانیوں کی فکر ستا رہی ہے؟ پھر قادیانیوں کے کون سے حقوق ہیں جو انھیں نہیں مل رہے؟ اگر حقوق سے مراد یہ ہے کہ انھیں مسلمانوں والے حقوق دیے جائیں، انھیں اپنے کفریہ عقائد کی کھلی تبلیغ کی اجازت دی جائے، انھیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی اجازت دی جائے، انھیں مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت ہو تو یہ حقوق انکے سرے سے ہے ہی نہیں کیونکہ آئین میں کسی بھی غیر مسلم کو یہ حقوق نہیں دیے گئے ، پھر وہ کون سے حقوق ہیں جن کی فکر ان "رمضانی میڈیائی علماء" کو کھائے جا رہی ہے؟ .اگر انھیں اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ فلاں جگہ ایک قادیانی کو قتل کر دیا گیا ، تو قتل تو اس ملک میں دوسرے بھی ہوتے ہیں، بلکہ دوسرے زیادہ ہوتے ہیں، پھر قادیانی کے قتل کو مذہبی بنانا کہاں کا انصاف ہے؟ کسی دینی جماعت نے کبھی بھی قادیانیوں یا کسی دوسری اقلیت کو قتل کرنے کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ اسے درست سمجھتی ہے، اگر ایسا ہوتا تو آج قادیانوں کے گڑھ چناب نگر (سابقہ ربوہ) میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا ، وہاں جلاؤ گھیراؤ کا سماں ہوتا ... لیکن ایسا نہیں ہے ..قادیانی اس ملک میں رہ رہے ہیں، ان کے بڑے بڑے کاروبار ہیں، شیزان جیسی کمپنی ہے، ذائقہ گھی ہے، شوگر ملز ہیں...نہ جانے وہ کونسا حق ہے جو یہ "پیڈ میڈیا" والے انھیں دلانا چاہتے ہیں؟ معاف کیجیے گا اگر آپ انھیں "مسلم" ہونے کا حق دلانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے...یہ کوئی سیاست کا بازار نہیں کہ آپ جس کی چاہے پگڑی اچھالو .. یہ غیرت مسلم کا مسئله ہے ، اس کے لیے ہزاروں ختم نبوت کے پروانوں نے اپنی جانیں دی ہیں، یہ حرمت رسول صلى الله عليه وسلم اور آپ صلى الله عليه وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کی بات ہے ... جس کے سامنے آپ کے ٹی وی چینل کی حیثیت کچھ بھی نہیں .. اس لیے یہ "ٹیسٹر" پھینکنا بند کرو بلکہ رمضان نشریات کے نام پر بے حیائی پھیلانا بند کرو ، اداکاروں کو "علماء" بنا کر پیش کرنا بند کرو ورنہ یہ نہ ہو کہ کل کو تمہیں کسی کے حقوق بھول کر اپنے حقوق کی دھائی دینی پڑے ...

حمزہ عباسی! قادیانیوں کے بارے میں علماء امت کے فتوے تم جانتے ہو، آئین پاکستان کیا کہتا ہے یہ بھی تمہیں علم ہے، آؤ اب میں تمہیں بتاؤں کہ اس ملک کی اعلى عدالتوں نے کیا فیصلے دیے ... کیا پارلیمنٹ، علماء اور عدلیہ سب غلط تھے؟؟ کیا رابطہ عالم اسلامی مسلم ملکوں کی تنظیم غلط تھی جس نے پاکستانی کی اسمبلی کے فیصلے سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا تھا؟ ...کیا ساری دنیا کے مسلمان غلط ہیں ؟ خدا کے لیے اپنے ایمان کو یوں نہ فروخت کرو ، قیامت کے دن خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم کے سامنے کیا جواب دوگے؟ اگر انہوں نے پوچھ لیا ..حمزہ! تم تو میرے چچا کی اولاد سے تھے ، تم نے یہ نہ سوچا کہ ایک ایسا شخص جس نے اپنے بارے میں کہا کہ "میں محمد رسول الله ہوں" جس نے یہ بکواس کی کہ "جس نے میرے اور محمد مصطفى کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں" جس نے یہ کہا کہ "میری صورت میں محمد رسول الله دوبارہ دنیا میں آئے ہیں" ، تم ایسے شخص کو نبی اور مجدد ماننے والوں کے حقوق کی بات کرتے رہے؟ تو کیا جواب دوگے؟؟ سوچو .... یاد رکھو حمزہ عباسی! قادیانیوں کے نزدیک تو تم مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرکے پہلے ہی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہو ...وہ تمہیں مسلمان نہیں سمجھتے کیونکہ تم ان کے مطابق الله کے ایک نبی کے منکر ہو ...پھر تم انکے لیے اپنے ایمان کو کیوں خطرے میں ڈال رہے ہو؟ ....آؤ تم قادیانیوں کے جن حقوق کی بات کرنا چاہتے ہو ان کے بارے میں پاکستان کے اعلى عدالتوں کے فیصلے پڑھ لو .

وفاقی شرعى عدالت
26 اپریل 1984 کو صدر پاکستان جنرل محمد ضياء الحق مرحوم نے وہ آرڈیننس جاری کیا جسے "امتناع قاديانيت" آرڈیننس کہا جاتا ہے، جس کے تحت مرزائیوں کے ہر دو گروپ لاہوری و قادیانی کو ان کی خلاف اسلام سرگرمیوں سے روک دیا گیا ، اس آرڈیننس کے تحت مجموعہ تعزیرات پاکستان ایکٹ نمبر 45 ، 1860 میں باب پندرہ میں دفعه 298 اے کے بعد دو نئی دفعات 298 بى اور 298 سى کا اضافہ ہوا .
مرزائیوں کے دونوں گروپوں قادیانی اور لاہوری نے اس آرڈیننس کو فورى طور پر وفاقى شرعى عدالت میں چیلنج کر دیا اور اس آرڈیننس کو قرآن وسنت کی تعلیمات اور ان کے بنیادی حقوق کے منافی قرار دینے کی درخواست کی ، شرعى عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس جناب فخر عالم کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت کی ، بنچ جسٹس آفتاب احمد، جسٹس فخر عالم، جسٹس چودھری صدیق، جسٹس مولانا غلام محمد، جسٹس مولانا عبدالقدوس ہاشمی پر مشتمل تھا، اس کیس کی سماعت 15 جولائى 1984 سے 12 اگست 1984 تک مسلسل جاری رہی.. آخر کار مورخہ 28 اکتوبر 1984 کو فیصلہ آیا اور فیصلے میں بنچ نے متفقہ طور پر مرزائیوں کی اپیل خارج کردی اور "امتناع قاديانيت آرڈیننس" کو قرآن وسنت کے مطابق قرار دے دیا ... اس کیس کا نمبر ہے : شريعت پٹیشن نمبر 2/ ايل اور 18 / آئى 1984 .. درخوست دہندگان مجيب الرحمن و کیپٹن عبدالواجد (ریٹائرڈ) ودیگر بنام وفاقی حکومت و بنام اٹارنی جنرل آف پاکستان .

سپریم کورٹ آف پاکستان (شرعى اپیلٹ بنچ)
قادیانیوں نے وفاقی شرعى عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کردی اور اسے كالعدم قرار دینے کی درخوست دائر کردی، سپریم کورٹ کے شريعت اپلٹ بنچ نے جسٹس محمد افضل ظلہ کی سربراہی میں اس اپیل کی سماعت کی، بنچ کے دیگر ممبران میں جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس شفيع الرحمن ، جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی شامل تھے، سماعت کے لیے جونہی کوئی تاریخ نکلتی قادیانی درخوست دے کر سماعت رکوادیتے، اڑھائی سال تک اسی طرح چلتا رہا، بالآخر 10 جنورى 1988 اس کیس کی راولپنڈی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی، قادیانیوں نے کیس کو غیر ضروری طوالت دینے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے اور بالآخر اپنی اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کردی ، ان کی واپسی اپیلوں کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے پانچوں جج صاحبان نے مورخہ 11 جنورى 1988 کو متفقہ فیصلہ تحریر فرمایا ، فیصلہ بنچ کے سربراہ جسٹس محمد افضل ظلہ نے تحریر فرمایا (جو بعد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بھی بنے) اور باقی جج صاحبان نے ان کے فیصلے سے اتفاق کیا، فیصلے میں سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ نے وفاقی شرعى عدالت کے فیصلے کو بحال رکھا ... کیس کا نمبر ہے شرعى مرافعه نمبر 24 و 25 / 1984 .

سپریم کورٹ آف پاکستان 1993
مرزائیوں کے دونوں گروہوں (قادیانی /لاہوری) کی طرف سے امتناع قاديانيت قانون کے خلاف کی گئی متعدد اپیلوں پر فیصلہ دیتے ہوے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مورخہ 3 جولائي 1993 کو ایک بار پھر یہ تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ مرزائیوں کی طرف سے کی گئی تمام اپیلیں خارج کی جاتی ہیں ..اور یہ قرار دیا کہ قادیانی غیر مسلم ہونے کی حيثيت سے اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے .. یہ بنچ ان پانچ معزز ججوں پر مشتمل تھا ، جسٹس شفيع الرحمن (سربراه)، جسٹس عبدالقدير چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد اور جسٹس سلیم اختر.. ان پانچ میں سے چار ججوں نے متفقہ طور پر قادیانی موقف کو یکسر مسترد کردیا اور جسٹس عبدالقدير چوہدری صاحب کے لکھے فیصلے سے کلی اتفاق کیا، تاہم ایک جج جسٹس شفيع الرحمن نے جو کہ اس بنچ کے سربراہ بھی تھے اپنے اختلافی نوٹ میں جزوی طور پر امتناع قاديانيت آرڈیننس کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا (لیکن اسلامی احکامات کے خلاف قرار نہیں دیا) .

سپریم کورٹ آف پاکستان 1999
سپریم کورٹ کے 1993 کے فیصلے کے خلاف مرزائیوں نے نظر یعنی کی اپیل دائر کی، اس اپیل کی سماعت کے لیے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ بنایا گیا جو چیف جسٹس آف پاکستان سعيد الزمان صديقى ، جسٹس ارشاد حسن خان، جسٹس راجہ افراسیاب خان، جسٹس محمد بشیر جہانگیری اور جسٹس ناصر اسلم زاہد پر مشمتل تھا ، مورخہ 8 نومبر 1999 کو اس بنچ نے اپیل کنندگان کی طرف سے عدم پیروی اور ان کے وکلاء کی عدم حاضرى کی وجہ سے نظر ثانی کی یہ اپیل خارج کردی .
مختلف عدالتوں کے فیصلے
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اعلى عدالتوں نے مختلف مواقع پر دیے گئے اپنے فیصلوں میں قادیانیوں کے کفر پر مہر ثبت کی .
لاہور ہائی کورٹ 1981
لاہور ہائی کورٹ 1982
لاہور ہائی کورٹ 1987
کوئٹہ ہائی کورٹ 1987
لاہور ہائی کورٹ 1991
لاہور ہائی کورٹ 1992
لاہور ہائی کورٹ 1994
مختلف سیشن کورٹس کے فیصلے اسکے علاوہ ہیں .

Monday, June 13, 2016

قادیانیوں کے بلا اجرت وکیلوں سے ہوشیار.. تصویر کا دوسرا رخ

قادیانیوں کے بلا اجرت وکیلوں سے ہوشیار.. تصویر کا دوسرا رخ


مصنف : حافظ عبيدالله

=====================================
آج کل پھر وہی مردہ زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو 1974 میں ہمیشہ کی لئے منوں مٹی تلے دفنادیا گیا تھا، آئیے میں آپ کو ماضی میں لیے چلتا ہوں، سنہ 1839 يا 1840 میں ہندوستانی پنجاب کے ضلع گورداسپور کی تحصیل بٹالہ کے ایک گاؤں قادیان میں مرزا غلام مرتضى بیگ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام غلام احمد رکھا گیا، جو بعد میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے مشہور ہوا، مرزا قادیانی تقريباً 69 سال کی عمر پا کر 26 مئى 1908 کو لاہور میں بمرض هيضه اگلے جہاں چلا گیا، اس مرزا قادیانی نے پہلے تو تدریجی طور پر "مجدد" "امام مہدی" "مسیح موعود" ہونے کا دعوے کیے، اور بعد میں صریح طور پر اپنے آپ کو "نبی" اور "رسول" کہنے لگا، صرف یہی نہیں اسکا دعوا یہ تھا کہ وہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا دوسرا ظہور ہے، اور جس نے میرے اور حضرت محمد مصطفى صلى الله عليه وسلم کے درمیان فرق کیا اس نے مجھے پہچانا ہی نہیں، اس نے کہا کہ حضرت محمد صلى الله عليه وسلم نے دو بار دنیا میں مبعوث ہونا تھا، ایک بار وہ مکہ و مدینہ کی سرزمین پر تشریف لائے، اور دوسری بار میری شکل میں قادیان میں ان کا ظہورہوا ...
(حوالے طلب کرنے پر پیش کیے جا سکتے ہیں)

مرزا قادیانی نے 1880 تا 1884 اپنی پہلی کتاب کے چار حصے شائع کیے جس کا نام اس نے "براهين احمديه" رکھا، اس کتاب میں اگرچہ اس نے صریح طورپر کوئی ایسی بات نہ لکھی جس پر بلا شک اس پر کفر کا فتویٰ لگے، لیکن ایسی گول مول باتیں اورایسے الہام لکھے جنہیں پڑھ کر اس وقت کے زیرک اور صاحب بصیرت علماء نے بھانپ لیا کہ یہ شخص کس چیز کی بنیاد رکھنے جا رہا ہے، اسی خطرےکو بھانپتے ہوے براہین احمدیہ کے شائع ہونے کے فورا بعد سنه 1301 هجرى میں لدھیانہ کے چند علماء نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتویٰ دے دیا، جبکہ کچھ دوسرے علماء نے براہین احمدیہ میں لکھی باتوں کو بے دینی اور لا مذہبیت تو کہا لیکن صریح کفر کا فتویٰ نہ دینے میں ہی احتیاط سمجھی.... لیکن جب مرزا قادیانی نے اپنی اگلی کتابیں فتح اسلام ، توضيح مرام اور ازاله اوهام وغيره لکھیں تو ان محتاط علماء کو بھی اپنی احتیاط ترک کرنی پڑی اور اہل حدیث عالم مولانا محمد حسين بٹالوی نے جو مرزا کے ہم مکتب بھی رہے تھے ایک استفتاء لکھ کر مختلف علاقوں کے مفتیان کے پاس بھیجا اور تمام علاقوں کے معروف مفتیان نے مرزا کی کفریہ تحریرات کی بناء پر متفقہ طور پر اسکےخلاف کفر کا فتویٰ دیا ...جو مولانا بٹالوی نے شائع کردیا، اسی طرح انہی دنوں لاہور کے ایک عالم مولانا غلام دستگیر قصوری نے بھی علماء حرمین اور دوسرے علماء سے مرزا کے خلاف کفر کا فتویٰ لیا جو بوجوہ شائع مولانا بٹالوی کے فتوے کے بعد ہو سکا ...

مورخہ 7 مئى سنہ 1907 كو خود مرزا قادیانی نے اپنے مریدوں کے لیے ایک اشتهار شائع کیا جس میں اس نے لکھا کہ :
"اگر تم اس گورنمنٹ (یعنی انگریز کی حکومت- ناقل) کے سایہ سے باہر نکل جاؤ ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو جو تمہیں اپنی پناہ میں لے گی، ہر اسلامی سلطنت تمہارے قتل کے لیے دانت پیس رہی ہے، کیونکہ انکی نگاہ میں تم کافر اور مرتد ٹھہر چکے ہو"
"تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو"
(مجموعه اشتهارات مرزا قادياني ، جلد 2 صفحه 709 جديد ایڈیشن)
یہ مرزا قادیانی کی طرف سے اس بات کی تائید ہے کے اسکی زندگی میں ہی تمام مسلمان اس بات پر متفق تھے کہ وہ اور اسکے ماننے والے کافر ہیں ...

لہذا یہ بات کہنا کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت (قادیانی/ مرزائی) کو 1974 میں کافر قرار دیا گیا درست نہیں، شرعى و مذهبى طور پر کافر تو وہ اس وقت سے قرار دیے جاچکے تھے جب مرزا نے کفریہ دعوے کیے تھے، چونکہ پاکستان بننے کے بعد مرزا کی جماعت قادیان چھوڑ کر پاکستان میں آ گئی اور لوگوں کو دھوکہ دیتے چلے آ رہے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہیں تواس دھوکے کا سد باب کرنے کے لیے پاکستان کے مسلمانوں کی تحریک کے نتیجے میں انکا غیر مسلم ہونا پاکستان کے آئین میں بھی ڈال دیا گیا ... دوسرے لفظوں میں 1974 میں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کو قانونی حيثيت بھی دے دی گئی جبکہ شرعى طور پر وہ پہلے ہی سے غیر مسلم تھے ...اور 1974 میں بھی یونہی یہ کام نہیں ہو گیا، بلکہ قادیانیوں کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر کو اپنے دفاع کا بھرپور موقع دیا گیا اور پاکستان کی اس وقت کی قومی اسمبلی کو ایک خصوصی کمیٹی کا درجہ دے کر سوال و جواب کی متعدد مجلسیں ہوئیں کیے گئے .... اور اسکے بعد اسمبلی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا کہ ایسے عقائد رکھنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے اور یہ جو لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں یہ سراسر دھوکہ دیتے ہیں ..

آج اپنے آپ کو "سکالر" سمجھنے والے چند لوگ یہ سوال کرتےنظر آتے ہیں کہ کیا ریاست کسی کو کافر قرار دے سکتی ہے؟ کچھ فیس بکی لکھاری اس پر مضمون لکھتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کے قانون میں قادیانیوں کے بنیادی حقوق سلب کیے گئے ہیں، یہ ان قادیانیوں کی وکالت کرتے ہیں جنہوں نے آج تک آئین پاکستان کو قبول نہیں کیا، جو آج بھی دھڑلے سے اپنے آپ کو مسلمان بلکہ "اصلی مسلمان" کہتے ہیں اور اپنے علاوہ دوسروں کو کافر کہتے ہیں... جی ہاں! حیران نہ ہوں ... شاید کوئی قادیانی یا قادیانی نواز کہے کہ "قادیانی تو کسی کو کافر نہیں کہتے" ... تو آنکھیں کھول کر یہ حوالے پڑھیں:

مرزا قادیانی پر ہونے والی نام نہاد وحی اور الہامات کو ایک مجموعه "تذكره" کی شکل میں شائع کیا گیا ہے، اس میں مرزا قادیانی کی یہ بات لکھی ہے:
"خدا تعالى نے میرے پرظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذه ہے"
(تذکرہ، صفحه 519 طبع چہارم)
غور کریں مرزا قادیانی اپنے خدا کی وحی بتا رہا ہے کہ جس نے بھی میرے دعووں کوقبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے... قادیانیوں کے بلا اجرت وکیل بھی سوچیں کیا وہ مرزا قادیانی کو "امام مہدی" "مسیح موعود" اور "نبی و رسول" مانتےہیں؟ اگر نہیں مانتے تو مرزا کے فتوے کے مطابق وہ مسلمان نہیں ہیں ..

ایک اور جگہ مرزا قادیانی نے لکھا:
"ان الہامات میں میری نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ، خدا کا مامور، اور خدا کی طرف سے آیا ہے، جوکچھ کہتا ہے اس پرایمان لاؤ، اور اس کا دشمن جہنمی ہے"
(رساله دعوت قوم ، مندرجه روحانى خزائن جلد 11 صفحه 62 حاشيه)
یعنی جو مرزا کی بات پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنمی ہے.

اسی تذکرہ میں مرزا نے اپنےخدا کی ایک نام نہاد وحی یوں لکھی ہے:
"جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا، اور تیری بيعت میں داخل نہیں ہوگا، اور تیرا مخالف رہے گا،وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا ہے"
(تذكره ، صفحه 280 طبع چہارم)
لیجیے جو مرزا قادیانی کی پیروی نہ کرے اور اسکی بيعت میں داخل نہیں ہوا وہ خدا اوررسول کا نافرمان ٹھہرا .

آگے چلیں، مرزا نے اپنے مخالفین کے بارے میں لکھا :
"جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی، یہودی اور مشرک رکھا گیا"
(نزول المسيح ، مندرجه روحانى خزائن جلد 18 صفحه 382)
یعنی جو بھی مرزا کا مخالف ہے اور اسکے دعووں کو قبول نہیں کرتا وہ مسلمان نہیں بلکہ یہودی ، عیسائی اور مشرک ٹھہرا .

مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین کو گالیاں بھی دیں، ایک نمونہ پیش خدمت ہے:
"ہمارے دشمن بیابانوں کے خنزیرے ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں"
(نجم الهدى ، مندرجه روحانى خزائن جلد 14 صفحه 53)

اب قادیانیوں کے وکیل اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر مرزا قادیانی کے بیٹے اور قادیانیوں کے دوسرے نام نہاد خلیفے مرزا محمود کا یہ بیان پڑھیں:
"کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (یعنی اسکے مطابق مرزا قادیانی- ناقل) کی بيعت میں شامل نہیں ہوے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں"
(آئينه صداقت مصنفه مرزا بشير الدين محمود ، مندرجه انوار العلوم جلد 6 صفحه 110)

یہی مرزا محمود دوسری جگہ لکھتا ہے:
"ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں (یعنی غیر قادیانیوں - ناقل) کو مسلمان نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ہمارے نزدیک خدا تعالى کے ایک نبی کے منکر ہیں"
(انوار خلافت مصنفه مرزا بشيرالدين محمود ، مندرجه انور العلوم جلد 3 صفحه 148)

وہ تمام اینکرز، وہ تمام فیس بکی علّامے، جو قادیانیوں کی وکالت کرتے نہیں تھکتے اپنے آپ سے پوچھیں کیا انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان کراسکی بيعت کی ہے؟ اگر نہیں کی تومرزا محمود کے فتوے کےمطابق وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہیں...کیا وہ مرزا قادیانی کو الله کا نبی مانتے ہیں؟ اگر نہیں تو وہ بقول مرزا محمود الله کے ایک نبی کے منکر ہوے اور کافر ٹھہرے ...
واضح رہے کہ مندرجہ بالا تمام تحریرات 1974سے بہت پہلے کی ہیں ... اب میرا سوال یہ ہے کہ 1974 میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیے جانے پر پیچ و تاب کھانے والے دانشور یہ بتا سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی اور اسکے بیٹے کو تمام مسلمانوں کو "کافر" اور "دائرۂ اسلام" سے خارج کرنے کا حق کس نے دیا تھا؟؟؟

بات سوچنے کی ہے... مرزا قادیانی کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں دونوں میں سے صرف ایک ہی مسلمان ہو سکتاہے، ذرا سوچیں... مسلمان ہونے کے لیے الله کے تمام انبیاء پر ایمان رکھنا ضروری ہے، مثال کے طورپر ایک آدمی کہے کہ میں کلمہ لا اله الا الله محمد رسول الله پڑھتا ہوں، نماز، روزہ، حج زکات بھی مانتا ہوں، الله کے تمام نبیوں کو بھی مانتا ہوں لیکن (مثال کے طور پر) حضرت عيسى عليه السلام کو الله کا نبی نہیں مانتا تو ایسا شخص کسی طرح مسلمان نہیں ہو سکتا ... کیونکہ اس نے الله کے ایک نبی کا انکار کیا ہے... اب غور کریں... اگر تو مرزا قادیانی الله کا نبی ہے (جیسا کہ قادیانی کہتے ہیں) تواسکا انکار کرنے والے وہ تمام لوگ جنہوں نے اسے نبی نہیں مانا اوراسے جھوٹا اور کذاب سمجھتےہیں مسلمان نہیں رہ سکتے .... اور اگر وہ کذاب ہے اور دعوائے نبوت میں جھوٹا ہے تو اسے نبی ماننے والے مسلمان نہیں ہو سکتے ... یہ نہیں ہو سکتا کہ مرزا کو نبی ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں ہی مسلمان ٹھہریں .....

سب سے پہلے تو قادیانیوں کی وکالت کرنے والے اینکرز اور فیس بکی دانشور یہ فیصلہ کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟ مرزا قادیانی کو نبی مانے والوں میں یا اسے جھوٹااور کذاب سمجھنے والوں میں؟ ہمارا حسن ظن ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے ہونگے بلکہ جھوٹا ہی سمجھتے ہوں گے ... لہذا مرزا قادیانی اور اسکے بیٹے کے مندرجہ بالا فتووں کی رو سے وہ کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ... اور یہ فتوے 1974 سے بہت پہلے کے ہیں .... اب ہونا تو یہ چاہیے کہ 1974 کو رونے کے بجائے پہلے قادیانی جماعت سے پوچھا جائے کہ انکے گرو مرزا قادیانی اور اور اسکی جماعت کو کس نے حق دیا تھا کہ وہ تمام غیر قادیانیوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کریں؟ جب یہ جواب مل جائے تو پھر 1974 پر آ جائیں ، اور سوال کریں، ہم بتائیں گے کہ انھیں کن وجوہات کی بناء پر غیر مسلم قرار دیا گیا ...

اب رہی بات قادیانیوں کے بنیادی حقوق کی... تو اگر ان حقوق سے مراد یہ ہے کہ قادیانیوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام بنا کر پیش کرتے رہیں، اور اپنے آپ کو "اصلی مسلمان" کہتے رہیں، تو معاف کیجیے گا یہ حق انھیں نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ سور کے گوشت پر "بکرے کے گوشت" کا لیبل لگا کر فروخت کرنا، یا کسی حرام مشروب پر "زم زم" کا لیبل لگا کر بیچنے کی اجازت کسی طرح نہیں دی جا سکتی .... اور اگر حقوق سے مراد وہ حقوق ہیں جو آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیتوں کو حاصل ہیں تو وہ حقوق قادیانیوں کو ضرور ملنے چاہییں بشرطیکہ وہ دوسرے غیر مسلموں کی طرح ریاست کے آئین کو تسلیم کریں اور تسلیم کریں کہ وہ غیر مسلم ہیں .. ریاست کسی ایسے شہری کو اسکےحقوق دینے کی پابند نہیں جو ریاست کے دستور کو نہ مانتا ہو ... نیز ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اپنے مذھب کی تبلیغ کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی .... چہ جائے کہ مرتدوں اور زندیقوں کو ایسی اجازت دیجائے.

قادیانی اور دوسرے کافروں میں فرق:
سب سے اہم بات یہ ذہن میں رہے کہ قادیانی اور دوسرے غیر مسلموں میں بہت بڑا فرق ہے، عیسائی، یہودی، سکھ یا ہندو اپنے آپ کو کبھی بھی مسلمان کہہ کر پیش نہیں کرتے، لہذا وہ عام کافر ہیں ... لیکن قادیانی یا تو مرتد ہونگے یا زندیق... جو اسلام ترک کرکے قادیانی ہوے وہ مرتد .. اور جو قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوے اور اپنے مذھب کو اسلام کہنے پر مصر ہیں اور ساتھ ہی قادیانی عقائد کو بھی گلے سے لگائے ہیں وہ زندیق ... اور اسلام میں "مرتد و زندیق" کے احکام عام کافروں سے الگ ہیں ... جن کےبیان کرنے کا یہ موقع نہیں .... لہذا یہ دلیلیں دینا کہ قادیانیوں کو اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی آزادی دی جائے، انھیں بھی مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے ..یہ درست نہیں ... دنیا میں "جعل سازی" کی اجازت کوئی بھی قانون نہیں دیتا ... مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کو پتہ چلے کہ کوئی اسکے نام سے جعلی مشروب بنا رہا ہے .. لیبل تو کوکا کولا ہے لیکن اندر جو چیز ہے وہ اصلی نہیں تو قانون ایسی جعل ساز فیکٹری کو بند کرنے کا پابندہے ....اگر دنیا کے ٹریڈ مارک کی اتنی اہمیت ہے تو کیا دین اس سے بھی گیا گذرا ہے کہ کوئی بی اپنے کفریہ عقائد کو "اصلی اسلام" بنا کر پیش کرے اور اسے کھلی اجازت دے دی جائے؟

آخری گذارش.
قادیانیوں سمیت کسی بھی غیر مسلم کو قتل کرنا یا قتل کی ترغیب دینا یا قانون اپنے ہاتھ میں لے کر انکے گھر جلانا، انھیں ہراساں کرنا ، کسی طرح بھی درست نہیں... اگر کسی نے کو جرم کیا ہے تو اسے سزا دینے کے اختیار صرف ریاست کو ہے ...

نوٹ: اس تحریر میں پیش کیے گئے قادیانی کتابوں کے ریفرنسس اور حوالوں کے ہم ذمے دار ہیں، اور طلب کرنے پر اصل کتابیں پیش کی جا سکتی ہیں...

Thursday, May 19, 2016

پرویز ھود بھائی کا ایچ ای سی کو چونا

پرویز ھود بھائی کا ایچ ای سی کو چونا !


مصنف : گھمنام


پاکستان کے ہائرایجوکیشن کمیشن  (ایچ ای سی ) نے  پاکستانی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے فروغ کے لئے (Tenure Track Statute (TTS کا نظام متعارف کروایا - اس نظام کے معیار پر پورا اترنے والے پروفیسرایک وفاقی وزیر سے زیادہ ماہانہ 400،000 روپے تک تنخواہ وصول کرسکتا ہے-  چونکہ یہ نظام قابل اور ہائی رینک اساتذہ کے لیے متعارف کروایا گیا لہذا اس نظام کے تحت اہل اساتذہ کے تحقیقی کام کا کم از کم پیمانہ مقرر کیا گیا کہ انھوں نے پچھلے پانچ سال میں کم از کم پانچ تحقیقی مقالے اپنی فیلڈ میں لکھے ہوں -

 پرویز ہود بھائی کی شہرت ایک سائنس دان کی ہے اور وہ ملک کی معروف یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے ہیں، آج کل ان کی شہرت استاد یا سائنس دان کے طور پر کم اور ہر طرح کے امور کے تجزیہ کار کی زیادہ ہے، اسی نسبت سے وہ اکثر ٹی وی چینلز پر پائے جاتے ہیں- 2009 میں انھوں نے  قائد اعظم  یونیورسٹی اسلام آباد کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی فائل ایچ ای سی کو بھجوا دی باوجود اس کے کہ وہ TTS کے کم ترین پیمانے پر پورا نہیں اترتے تھے۔ ہودبھائی نے نہ صرف نظام سے پورا فائدہ اٹھایا بلکہ وہ تنخواہ بھی وصول کی جس کے وہ حقدار نہیں تھے۔ جب ان کے ایک ساتھی استاد نےاعتراض کیا کہ وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے کیونکہ خود ان کی سی وی کے مطابق گزشتہ 5 سال میں صرف چار تحقیقی مقالےاپنی فلیڈ میں  لکھے تھے جبکہ ایچ ای سی کے  TTS کے حصول کا میعار پانچ تحقیقی مقالہ جات کا تھا،  توہود بھائی غصے میں آ کر فرمانے لگے اگر میں ایچ ای سی کے معیار پرپورا نہیں اترتا تو دوسرا کوئی پروفیسر بھی اس کا اہل نہیں ہو سکتا۔ مطلب صاف تھا کہ اگر میری ایپلیکیشن پر اعترا ض لگایا تو سب کا کام رکوا دوں گا-

(نیچے ہود بھائی کی اپنی ویب سائٹ پر موجود CV اورHEC کی ویب سائٹ پر موجود TTS پروفیسر کی اہلیت کے پیمانے سے یہ بات چیک کی جا سکتی ہے کہ 2009 میں ہود بھائی اس پیمانے پر پورے نہیں اترتے تھے )

بہرحال HEC کے آڈٹ میں اس فراڈ کی قلعی کھل گئی مگرتب تک موصوف ریٹائر ہو چکے تھے اور اب TTS کی بنیاد پر بھاری پنشن وصول کر رہے ہیں- ہماری معلومات کے مطابق HEC  نے قائداعظم یونیورسٹی سے یہ مطالبہ کیا کہ ان سے زائد تنخواہ اور پنشن واپس لی جائے مگر ہود بھائی نے اس عمل کو اپنے تعلقات سے رکوا دیا۔ ہمارا اعلی عدلیہ اور میڈیا کے نمائندوں سے یہ مطالبہ ہے کہ اس فراڈ کا نوٹس لیا جائے اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس قومی خزانے کو واپس دلوایا جائے۔ شکریہ!

------------------
ایچ ای سی کریٹیریا  کا لنک !
http://www.hec.gov.pk/InsideHEC/Divisions/QALI/QADivision/Documents/Criteria%20for%20Professor%20in%20all%20Disciplines.pdf

-------------------------------------------------------------------------
پرویز ھود بھائی کی سی وی کا لنک
http://eacpe.org/content/uploads/2014/02/PH-CV-2013.pdf

Monday, May 16, 2016

پرویز ھود بھائی کی سائنسی خذمات

پرویز ھود بھائی کی سائنسی خذمات !


مصنف : گھمنام


بچپن کا واقعہ یاد آتا ہے ہمارے ہمساۓ میں علی انکل کے گھر میں پیر صاحب آئے ہوئے تھے - انہوں نے اپنے دیگر ہمسایوں کو بھی گھر دعوت دی - گھر پہنچ کر دیکھا پیر صاحب صوفے پی براجمان ہیں اور ان کے گھر کے مرد زمین پہ بیٹھے ہوئے ہیں - پیر صاحب نے کچھ دیر گفتگو کی - اس کے بعد کھانے پینے کا انتظام تھا - ابھی کھانا پینا چل ہی رہا تھا کہ آذان ہو گئی - مرد حضرات نماز کے لئے چلے گئےمگر پیر صاحب وہیں کے وہیں بیٹھے رہے - ہم بھی اپنے گھر کی طرف چل دیے - بعد میں امی نے علی انکل کی بیوی سے پوچھا کہ آپ کے پیر صاحب مسجد کیوں نہیں گۓ - انھوں نے کہا کہ وہ یہاں نماز نہیں پڑہتے ان کی نماز مکے مدینے میں ہو جاتی ہے - علی انکل بھی پڑھے لکھے تھے اور آج ان کے بچے بھی پڑھ لکھ چکے ہیں مگر آج تک بے نمازی پیر کے مرید ہیں - خیر ا یسی اندھی عقید ت کا فائدہ صرف مذہبی طبقہ نہیں اٹھاتا - پاکستان کے ہر میدان میں ایسے بے کار اور ڈھونگی ماہر ہیں جولوگوں کی اندھی عقید ت پر چل رہے ہیں -

اب کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کشش ثقل لہروں ( gravitational waves) کی دریافت نے پوری دنیا کی توجه اپنی طرف مبذول کروائی - اب کیا تھا پاکستان میں مخصوص ناکارے سائنس دانوں کی چاندی ہو گئی - یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے عرصے سے اپنی فیلڈ میں بھی کوئی خاص کام نہیں کیا اور ان کابھی کشش ثقل لہروں سے دور دور دور تک کوئی تعلق نہیں - آج دوسروں کی دریافت پر پہ ایسے اچھل رہے ہیں جیسے انھوں نے ہی کوئی کمال کیا ہے - جی ہاں یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں تم نے موبائل ایجاد نہیں کیا تو استعمال کیوں کرتے ہو- مجھے پوچھنا یہ ہے کے جب انھوں نے یہ دریافت ہی نہیں کی تو اچانک سے یہ ماہر کیوں بن رہے ہیں؟ - کئی پاکستانیوں کا اس کام میں براہ راست تعلق رہا ہے - کئی اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں - ان میں سے بہت سے لوگ آپ کو لیکچر دے سکتے ہیں - ملک میں نہ بھی ہوں تو ویڈیو کانفرنسنگ کے زریعے لیکچرہو سکتا تھا- مگر ہماری قوم کو ہر فیلڈ میں جیسے جاہلوں کو سننے کی عادت پڑھ گئی ہے .

پرویز ھود بھائی صاحب بھی آج کل تھوک کے حساب سے کشش ثقل لہروں پر لیکچر دے رہے ہیں - کچھ دن پہلے میرا ایک دوست ان کے لیکچر میں شریک تھا - لیکچر توکشش ثقل لہروں پرتھا مگر اس کے درمیان انھوں نے اپنا پرانا منجن بیچنا شروع کر دیا - پاکستانی تحقیق کے نام پہ دھوکا دیتے ہیں - ہماری مذہبی شدت پسندی ہمیں سائنس میں آگے بڑھنے نہیں دے گی- میرا دوست اپنے ارد گرد دیکھ رہا تھا کہ کتنے جو یہاں موجود ہیں اور کتنے اساتذہ جو دن رات تحقیق میں مصروف رہتے ہیں - مگر ھود بھائی کی عقیدت کا ایسا عالم ہے کہ کسی میں ہمّت نہیں ہوئی کہ پوچھے تم ہمیں طعنے دینے والے کون ہوتے ہو -اب تک فزکس کے پروفیسر ہو - آخری سائنسی مقالہ هود بھائی کا آٹھ سال پہلے چھپا تھا - ساری زندگی کشش ثقل لہروں پہ کام نہیں کیا - کسی دوسرے کے کام پہ جو تمہاری فیلڈ سے بھی نہیں ہے کیوں اس پر اتنا اچھل رہے ہو - دنیا میں جو شخص پانچ سال تک کوئی سائنسی کام نہ کرے اس کو نہ تو کوئی نوکری دیتا ہے نہ کوئی سائنس دان مانتا ہے - کوئی پوچھے ھود بھائی سے آج تک کتنے سٹوڈنٹ کی ریسرچ کو سپروائز کیا ہے ؟ جب ھود بھائی فزکس کا چیئرمین تھا تب تین سالوں میں پی ایچ ڈی کرنے والے سٹوڈنٹ تناسب 77 سٹوڈنٹ سے گر کر 13 سٹوڈنٹ پر آ گیا تھا ،یہ تعلیمی نظام کو تباہ کر رہا ہے قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کو اگر کسی سے تباہ کیا تو وہ جناب هود بھائی ہیں مگر پاکستان میں بس اندھوں کا راج ہے-

چلیں ماضی قریب کی بات نہ کریں ھود بھائی پورے کیریئر کو بھی دیکھ لیں - آپ دنیا میں تحقیق کا کوئی پیمانہ اٹھا لیں ھود بھائی قائد اعظم یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ میں بھی ممتاز نظر نہیں آئے گا - مثلا دنیا میں تحقیق کا ایک پیمانہ ایچ انڈکس ہے - پرویز ھود بھائی کا ایچ انڈکس 16 ہے جبکہ فزکس ڈیپارٹمنٹ میں ایسے کئی اساتذہ ہیں جن کا ایچ انڈکس 20 سے زیادہ ہے - مگر آپ میں سے کوئی ان کا نام نہیں جانتا - یھاں یہ بھی واضح کر دوں ایچ انڈکس کا تعلق تحقیقی مقالوں کی تعداد سے نہیں بلکہ مجموعی تحقیق کے معیار سے ہے-

میں سمجھتا ہوں جیسے ہمارے بے عمل پیر اور جاہل علما دینی کے نام پر جہالت پھیلانے کی وجہ ہیں اسی طرح ہمارے یہ بے کار سائنس دان اس ملک میں سائنس کی ترقی کی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں - ان کی حرکتیں دیکھ کر نوجوانوں کو لگتا ہے لوگوں کے کاموں پہ بڑھکیں مارنے والے کو سائنس دان کہتے ہیں - یہ بے کار سائنس دان این جی او ہی چلا سکتا ہے پتا اس کو قائد اعظم یونیورسٹی میں کس نے لگا دیا تھا .

پرویز ھود بھائی جیک آف آل ٹریڈ !

پرویز ھود بھائی جیک آف آل ٹریڈ !

مصنف : گھمنام

اس میں کوئی شک نہیں ڈاکٹر پرویز ھود بھائی میں قابلیت ہے ،چونکہ انہوں نے MIT سے بی ایس سی، MS اور پی ایچ ڈی کی ہے ، یا یوں که لیجیے کہ ان میں قابلیت تھی ،مگر مسلمانوں کی نفرت میں اور دانشوری کے شوق میں ہی برباد کردی . ان کو کس بات سے نفرت ہے یہ تو ہود بھائی ہی جانیں لیکن مشہور فزکس کے پروفیسر ریاض الدین کہا کرتے تھے کہ ان سے ( یعنی ہودبھائی سے) ہمیں بڑی امیدیں تھی مگر اس شخص نے نادیدہ نفرت میں اپنا ٹیلنٹ ہی برباد کر دیا ،،،، انہیں صرف سیاست اور اسلام کے خلاف بات کرنے میں دلچسپی ہے یا پھر پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے خلاف ..

چونکہ موصوف MIT سے فارغ التحصیل ہیں اسلئے ابھی تک پاکستان میں ان کو سائنس کی توپ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں ایم آئی ٹی کی چارم پہلے کچھ سال ہوتی ہے پھر آپ کو اپنی قابلیت کے جوہر میدان میں دکھانے ہوتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے سینتس برس اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ملازمت کی اور سینتس برس میں صرف 36 سائنٹیفک آرٹیکل یا مضمین لکھے ہیں! اسکے علاوہ ساری زندگی میں چار کتابیں لکھی ہے ، لیکن ان میں صرف ایک ہے جو فزکس جوکہ انکا اپنا پیشہ ورانہ شعبہ ہے، سے متعلق ہے جو 1991 میں لکھی گئی ! جس کو بعد میں کتاب کہا گيا اسکا نام " Proceedings of the School on Fundamental Physics and Cosmology" دراصل یہ ایک کانفرنس پیپر تھا جس کو بعد از تدوین کتابی شکل دی گئی ہے ورنہ یہ کتاب بھی نہیں . بحثیت مصنف ھود بھائی نے اپنے پیشہ سے متعلق ایک کتاب بھی نہی لکھی. اور هود بھائی نے زیادہ سے زیادہ سائنٹیفک پیپر ہی لکھیں ، کوئی تھیسس ، یا کتاب یا کوئی ایسی ریسرچ کنڈکٹ نہیں کی جس سے پاکستان کی سائنس فیکلٹی کو فائدہ ہو.

وکیپیڈیا پر اگر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی پروفائل دیکھی جائے تو ایوارڈز میں بیکر (IEEE W.R.G. Baker Award ) ایوارڈ کا تذکرہ ہے جو ان کو 1968 میں دیا گیا. اسی طرح وکیپیڈیا پر آئی ای ای ای یعنی الیکٹریکل اور الیکٹرانکس انجینئرز کے انسٹی ٹیوٹ کی ایوارڈ لسٹ میں 1968 میں بیکر ایوارڈ وننر کی نام لسٹ میں پرویز ہود بھائی، جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے .

مگر جب ہم آئی ای ای ای کی آفیشل ویب سائٹ پر جاتے ہیں اور اس میں جانی اینڈرسن، اور ہیری بی . لی کو تو بیکر ایوارڈ ملنے کا ذکر ہے لیکن ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا نام شامل نہیں ، ثبوت کے لئے کمنٹس میں آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی لسٹ پی ڈی ایف کی صورت میں دیکھیں . بیکر ایوارڈ فروری 2016 سے موقوف کر دیا گیا یعنی بند کر دیا گیا ہے . اب ہود بھائی صاحب خود ہی توثیق کر سکتے ہیں کہ ان کو 1968 میں آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ ملا تھا یا نہیں اگر ملا ہے تو ان کا نام آئی ای ای ای کی آفیشل ایوارڈ وصول کنندگان لسٹ میں کیوں نہیں ہے .یہی ایک معروف انٹرنیشنل ایوارڈ تھا جو موصوف کے حصہ میں آیا ،لیکن صرف وکیپیڈیا پر.

خیر ہمارے میڈیا پر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کبھی سینئر تجزیہ نگار ہوتے ہیں تو کبھی انسداد دھشتگردی کے ماہر... کبھی دفاعی تجزیہ نگار تو کبھی مذہبی اسکالر لیکن محترم کے پاس اپنی فیلڈ میں کام کرنے کا وقت نہیں ہے اور نہ اس ملک کے لئے !

آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ ملنے والوں کی آفیشل لسٹ ! اس  میں ھود بھائی  کا نام شامل نہیں جبکہ  جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے
http://www.ieee.org/about/awards/recognitions/baker_rl.pdf

--------------------------------------------------------------------------------
آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی ڈائریکٹ لنک
http://www.ieee.org/about/awards/recognitions/baker.html

-----------------------------------------------------------------------------
پرویز ھود کی وکیپیڈیا پروفائل یہاں پر پرویز ھود کے  بیکر ایوارڈ کا ذکر ہے
https://en.wikipedia.org/wiki/Pervez_Hoodbhoy

---------------------------------------------------------------------------------

آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی وکیپیڈیا لسٹ اس میں بھی پرویز ھود اور جانی اینڈرسن، اور ہیری بی لی کا نام شامل ہے. لیکن سوال یہ ہے کہ آفیشل لسٹ میں نام کیوں نہیں شامل
https://en.wikipedia.org/wiki/IEEE_W.R.G._Baker_Award

اس کی توثیق ھود بھائی خود ہی کر سکتے ہیں ، یہاں پھر سمجھا جائے کہ موصوف کو صرف وکیپیڈیا پر یہ ایوارڈ دیا گیا ہے .

خیر پرویز ہودبھائی 11 جولائی 1950 میں پیدا ہوۓ ! ابھی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی سائٹ پر ان کا کوانٹم کمپیوٹنگ پر لیکچر کا بلاگ پڑھ رہا تھا جو ھود بھائی 10 مارچ 2016 کو دیا تھا ، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے بلاگ میں بھی ھود بھائی کے آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کا سال بھی 1968 ہی لکھا ہوا تھا ،میں پہلے سمجھا کسی نے وکیپیڈیا پر غلط بیانی کی ہو گی ، مطلب ھود بھائی محض اٹھارہ سال کی عمر میں یہ ایوارڈ لیا ؟ جبکہ آئی ای ای ای بیکر ایوارڈ کی آفیشل لسٹ میں ان کا نام شامل نہیں ہے ! کیا یہ کوئی سائنسی معجزہ ہے. جبکہ موصوف نے پی ایچ ڈی 1978 میں کی ہے !

 انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی سائٹ کا لنک
http://itu.edu.pk/newsevents/quantum-computing

نوٹ : اگر اس آرٹیکل میں دی گئی انفارمیشن غلط ہوئی تو رجوع کر لیا جائے گا ! شکریہ !

Tuesday, May 3, 2016

جنسی تعلیم یعنی سیکس ایجوکیشن

جنسی تعلیم یعنی سیکس ایجوکیشن!


مصنف : گھمنام !


پاکستان  میں جنسی تعلیم کے حامی وہ لوگ ہیں جو قولا خود کو سیکولر کہتے ہیں لیکن عملا وہ محض  سیکس ورکرز سے زیادہ کچھ نہیں ہیں جن کا مقصد  اپنے قبحہ خانوں کی  سوسا ئٹی کے کلچر کو تجارتی مقاصد کے لئے  عام کرنا ہے۔ دوسری طرف طعنے بھی منٹو والے دیتے ہیں کہ ہماری حرکتیں  گندی نہیں تمہاری سوچ گندی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ احساس کمتری کا شکار اور  ایک  ترسا ہوا طبقہ ہے جو مغرب کے لائف سٹائل کو  افورڈ تو  نہیں کرسکتا، لیکن اس لائف اسٹائل کے ان پہلوؤں کو اپنانے کا مشاق ہے جن کے اثرات سے خود مغرب کا خاندانی و معاشرتی نظام شدید مشکلات کا شکار ہے ـ یہ طبقہ اپنے تجارتی مقاصد کے حصول کے لئے پاکستانی معاشرے پر ایسا کلچر مسلط کرنا چاہتا جو یہاں کے معاشرتی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا  ، مغرب میں اسکے ضمنی اثرات کیا ہیں ،اس سے نہ تو ان کو کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی  انہوں نے اسکے اثر کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس  انتظام کر رکھا ہے ؟ یہ طبقہ نہ  پاکستان میں انکی اقدامات کی سرے سے  ضرورت محسوس کرتا ہے نہ انکی غیر موجودگی سے انہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ انکو بس سیکس اور زنا کا مادف پدر آزاد ماحول چاہیے جس میں جنسی ضروریات بالکل اسی طرح کریں جس طرح جانور کرتے ہیں ـ

 حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو  پاکستان نہ فری سیکس سوسائٹی ہے نا ایک  ویلفیئر اسٹیٹ،  ایسی کوئی بھی ایجوکیشن پاکستانی بچوں کے لیے بالکل بھی موزوں نہیں ہے جس کے خود مغرب میں حد سے زیادہ منفی اثرات سامنے آئے ہیں، پاکستان اس کا ہرگز متحمل نہیں ہو سکتا۔۔

سیکولر افراد کہتے ہیں کہ جنسی تعلیم کی مخالفت اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ مذہب اس سے روکتا ہے۔ اگر مذہب کو کچھ دیر سائیڈ پر رکھ دیں تو بھی اس کے منفی اثرات کنٹرول کرنے کا کوئی خاطر خواہ لائحہ عمل نہ تو حکومت کے پاس ہے نہ ہی  موم بتی مافیا کی  این جی اوز کے پاس۔ راقم الحروف نے ایک ایسے اسکول میں تعلیم حاصل کی جہاں جنسی تعلیم ایک زائد از نصاب کے طور رائج تھی۔ سال میں چھ کلاسز ہوتی تھیں۔ عملا تو یہ بھی ایک فری سیکس سوسائٹی ہے (اگرچہ سرعام اس کی اجازت ہے نہ حوصلہ افزائی ، حکومت، معاشرے اور خاندان کا خوف بھی موجود ہے مگر یہ سب رکاوٹ نہیں ہیں)، بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کلچر رواج پا رہا ہے، پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے اس کلچر کو فروغ دیا ہے، موبائل اور انٹرنیٹ نے نوجوان نسل کو اب وہ مواقع فراہم  کر دیے ہیں جس کا کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا جا سکتا تھا۔ اب تو بچے چودہ سال کی عمر میں ہی اپنی جوانی کا جوش دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر عمل بھی کر گزرتے ہیں مگر اس کی وجہ سے بالخصوص لڑکیوں کےلیے بہت سی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ مثال کے طور غیر محفوظ جنسی عمل کی وجہ سے نوجوان لڑکیوں کا حاملہ ہونا ، پھر اسقاط حمل کروانا ،یا پھر اسقاط حمل وقت پر نہ کروانے کی وجہ سے نو عمر ماں بن جانا وغیرہ وغیرہ، ہمیں جنسی تعلیم پر جو لیکچر دیے جاتے تھے، ان میں زیادہ تر انھی مسائل پر روشنی ڈالی جاتی تھی، اور یہ بھی بتایا جاتا تھا کہ غیر محفوظ جنسی عمل کے بجائے حفاظتی طریقوں کا استعمال کرنا کتنا مفید ہے جس سے لڑکی کو اسقاط حمل جیسا عمل  نوعمری میں نہیں کروانا پڑے گا۔

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں شک کی بنیاد پر لڑکیاں قتل کر دی جاتی ہیں ، وہاں انھیں یہ راستہ دکھانا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر قتل نہ بھی ہوں تو عملا معاشرے میں ان کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے اور ان کی حیثیت ایک اچھوت جیسی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی جلدی ماں بن جانا ایک نو عمر لڑکی کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے یہ ایک لڑکی ہی جان سکتی ہے، مگر مغرب میں نہ تو حکومتیں کرپٹ ہیں نہ وہاں کے سسٹم  اپنے لوگوں کو ذلیل و خوار کرتے  ہیں، اگر کوئی لڑکی نو عمری میں ماں بن جائے جو کہ اکثر ہوتا ہے تو اس کے لیے حکومت کی طرف ماہانہ خرچہ ، صحت کی نگہداشت اور دوسری بنیادی ضروریات کا پورا پورا خیال حکومت کی طرف  رکھا جاتا ہے، دوسری طرف  پاکستان میں تو ویسے ہی زندگی کے لالے پڑے ہوتے ہیں

ہماری اپنی کلاس میں وہ لو برڈ جو صرف پپی لو تک محدود تھے ان چھ کلاسز کے بعد اپنی حدود کراس کر گئے کیوں کہ لڑکوں نے اپنی گرل فرینڈز کو یہ  یقین دلا دیا تھا کہ ٹیچر کے بتائے ہوئے حفاظتی طریقے اختیار کرنے سے محفوظ سیکس ہوتا ہے اس لیے اب ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے. جب ایک دفعہ یہ ہچکچاہٹ ختم ہو جائے تو پھر یہ سلسلہ کہیں رکنے کا نام نہیں لیتا۔ اس دوران ہماری ایک اسکول فیلو حاملہ ہو گئی اور لڑکے نے شادی سے انکار کر دیا۔ اس طرح سنگل مادر سامنے آتی ہیں اور مغرب میں یہ رجحان دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ سنگل مادر سے پیدا ہونے والے بچے نہ صرف باپ کی شفقت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہتے ہیں بلکہ انھیں کئی قسم کے نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے.

 اگر کچھ دیر کے لیے اس بحث سے مذہب اور معاشرے کو نکال دیں تو بھی کیا ہمارے جنس زدہ سیکولر افراد جو جنسی تعلیم اور فری سیکس سوسائٹی کے حامی ہیں تو کیا ان کے پاس اس تعلیم کے منفی اثرات سے بچائو کا کوئی ٹھوس پلان موجود ہے؟ کیا حکومت وقت ایسا ویلفیئرسسٹم متعارف کرواسکتی ہے جہاں سنگل مادر کو قتل کا خطرہ نہ ہو، جہاں اس کی زندگی حقارت سے اجیرن نہ بنا دی جائے اور جس کا ماہانہ خرچہ، صحت و تعلیم کی بنیادی ضرویات حکومت فراہم کرے۔

دیسی لبرلز اور سیکولرز سے گزارش ہے کہ اپنے پانچ منٹ کے مزے کی خاطر پورے معاشرے کو تباہ نہ کریں اور مذہب پر پھپتیاں کسنے کے بجائے پہلے اپنا حکومتی اور معاشرتی نظام دیکھ لیں !

Saturday, February 6, 2016

آفس کی عورتیں !

آفس کی عورتیں !

مصنف : گھمنام 


عورت ایسی مخلوق ہے کہ وہ گونگی بھی ہو تو بھی خاموش نہیں بیٹھ سکتی ! کسی نے کہا دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے ؟ توایک سیانے نے کہا ایک بند کمرے میں پچاس عورتیں ہیں اور خاموش بیٹھی ہیں ! خیر اگر آپ کے ساتھ آفس میں عورتیں کام کرتی ہیں تو روزانہ آپ کو دلچسب قسم کے تبصرے ،رونا دھونا اور لطیفے لائیو دیکھنے کو ملتے ہیں ! مرد کسی بھی آفس میں ہو وہ صرف دو ہی کام کرتا ہے ، یہاں تو وہ کچھ کام نہیں کرتا ، یا پھر وہ اپنے کام سے کام رکھتا ہوۓ کام کرتا ہے !


بہرحال ہمارے آفس میں کوئی تقریبا دو سو کے قریب سٹاف ہے ، تناسب کے لحظ سے اگر دیکھا جائے تو عورتوں کی تعداد زیادہ ہے ! تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے کوئی نہ کوئی عورت روزانہ روتی نظر آتی ہے ، اس کی وجہ ، کام کا پریشر، ایک دوسرے کے ساتھ نوک ٹوک ،اور خاندانی مسئلے مسائل ، سپروائزر کی طرف سے کام میں نقص نکالنا وغیرہ ہیں ! اور کبھی کبھی میں نے اپنی کو ورکر کو اس لئے بھی روتا دیکھا کہ وہ آج میک اپ کرنا بھول گئی ! خیر میک اپ سے یاد آیا ، میری ایک کوللیگ جیکلن نے مجھ سے پوچھا ، کیا کبھی تمہیں کسی چیز سے ڈر لگا ہے ؟ تو میں نے کہا آج تک تو نہیں لیکن جس دن تم کو میں نے میک اپ کے بنا دیکھ لیا اس وقت ہو سکتا مجھ پر خوف کی کفیت طاری ہو جائے بس اتنا کہنا تھا کہ وہ تین دن مجھ سے ناراض رہی !


بہرحال آفس میں کام کرنے والی عورتوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مصروف ہوتے ہوۓ بھی دوسروں کے بارے میں سرگوشیاں کرنا نہیں بھولتی !کان ان کے ہر وقت کھڑے رہتے ہیں کہ کون کس کے بارے میں کیا بات کر رہا ہے اس کی پوری خبر رکھتی ہیں. اور کسی نہ کسی طرح تمام خبریں اپنے سپروائزر تک پہنچا بھی دیتی ہیں. کسی بھی آفس میں خواتین کے دفتر کی میز بڑے ہی سلیقے کے ساتھ سجی ہوتی ہے جیسا کہ ،چار پانچ الگ سائز کے ٹیڈی بیر، رنگین پانی پینے والا کپ ، اور ایک دو مختلف سائز کے شیشے وغیرہ !اور اگر آپ کی سیٹ کے ساتھ ہی خواتین ورکر کی سیٹ ہو تو وہ ہر دو منٹ اور پچاس سیکنڈ کے بعد اپنے بال ضرور سنوار رہی ہوتی ہیں. لنچ ٹائم اور آفس سے چھٹی کرتے وقت دو کام کرنا یہ ہر گز نہیں بھولتی ایک منہ پر میک اپ پاؤڈر لگانا اور دوسرا ہاتھوں پر کریم ! اور میرے آفس میں کام کرنے والی خواتین کو جب بھی فارغ ٹائم ملتا ہے پتا نہیں کیوں باتھروم اور کسی دروازے کے ساتھ جھرمٹ میں گپے ہانکتی ہیں یہ میں آج تک سمجھ نہیں سکا !،یہ فارغ وقت میں گوسیپ سیٹ پر بیٹھ کر بھی ہو سکتی باتھروم کے پاس ہی کیوں ؟ ،


خاتون کوللیگ کی سب سے اچھی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اگر آپ نے لنچ نہیں کیا اور بھوک لگے تو کسی بھی خاتون کوللیگ سے بولے کہ مجھے بھوک لگی ہے تو فورا وہ آپ کو اپنے ڈیسک سے چپس، چاکلیٹ ، کینڈی وغیرہ نکال کردے دیتی ہے اگرچہ آپ کا تعلق و رویہ اس کے ساتھ اچھا ہو ! لیکن اس کا ایک نقصان یہ بھی کہ جب کبھی کوئی بھاری بھرکم پیکج ڈلیوری وغیرہ آئے گا تو مدد کے لئے سب سے پہلے آپ ہی کو قربانی کا بکرا بننا پڑہے گا ! نوجوان خاتون کو-سٹاف اور ادھیڑ عمر کی خاتون کو-سٹاف میں فرق یہ ہے کہ نوجوان کو- سٹاف آپ کے بہت سے کام میں مدد بھی کرواتی ہے ،لیکن ادھیڑ عمر خاتون سٹاف آپ کو لیکچر ہی دیتے نظر آئے گی. ہر آفس میں ایک ادھیڑ عمر خاتون ایسی ہوتی جو اماں کے کردار میں ہر وقت پیش پیش ہوتی ہیں ، ایسی کو-سٹاف سے بنا کر رکھیں ورنہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے ! لیکن ایک بات یاد رہے نوجوان خاتون کو-ورکر اور ادھیڑ عمر خاتون ورکر کی عمر کا موازنہ ہر گز ان کے سامنے نہ کریں ! کیوں ہر خاتون ہمیشہ لڑکی ہی ہوتی ہے ! خیر اب تک کے لئے اتنا ہی !


اس پوسٹ کو مزاح سے زیادہ سمجھنے والے آنٹے اور آنٹیاں اپنی عقل کا استعمال کر کے پوسٹ کی مزاح کو مجروح نہ کریں ! شکریہ ،